← Back to the feed
◈ Islam

شہادتِ امام حسین علیہ السلام اور مومنین کے دلوں کی تڑپ

السلام علیکم، کمیونٹی ممبران!
آج میں آپ کے ساتھ ایک ایسی حدیثِ مبارکہ شیئر کر رہا ہوں جو تاریخِ اسلام کے سب سے بڑے اور دردناک واقعے، یعنی واقعہ کربلا کی گہرائی اور اس کے مومنین پر اثرات کو واضح کرتی ہے۔

file_000000001930720b9358c58fb2e14291.png

حدیثِ مبارکہ اور اس کا ترجمہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:
"إِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَيْنِ حَرَارَةً فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَبْرُدُ أَبَداً."

ترجمہ:
"امام حسین علیہ السلام کا قتل ایسا گرم داغ مؤمنین کے دلوں پر رکھے گا جو کبھی سرد نہ ہو گا۔"
(حوالہ: مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، ج 10، ص 318)

تحریر اور پیغام
یہ حدیث اس لازوال محبت اور عقیدت کی گواہی ہے جو ہر سچے مؤمن کے دل میں نواسہِ رسول، جگر گوشہِ فاطمہ، امام حسین علیہ السلام کے لیے موجود ہے۔
• ایک دائمی حرارت: صدیوں گزر جانے کے بعد بھی، جب بھی محرم الحرام کا مہینہ آتا ہے یا ذکرِ حسین ہوتا ہے، دلوں میں وہی پرانا درد اور تڑپ تازہ ہو جاتی ہے۔
• حق اور باطل کا معرکہ: کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ابدی درسگاہ ہے جو ہمیں ظالم کے سامنے ڈٹ جانے اور حق پر سب کچھ قربان کر دینے کا حوصلہ دیتی ہے۔
• محبتِ اہلِ بیت: یہ غم مؤمنین کو آپس میں جوڑتا ہے اور ان کے ایمان کو جلا بخشتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم صرف اس غم کو منائیں ہی نہیں، بلکہ امام حسین علیہ السلام کے اسوہِ حسنہ اور ان کے اصولوں کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔
آپ کی رائے
امام عالی مقام کی قربانی کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔ اگر پوسٹ پسند آئی ہو تو Upvote اور Reblog کر کے آگے پہنچائیں۔
شکریہ۔

0
0
💬 0

Add a comment

0 comments