The Dilemma of "What Will People Say?" and the Dignity of Labor
The young man was an MA graduate, yet he had been unemployed for three years. One day, his father said, "Son! The door of our guest room opens onto the street. Why don't you repair it and open a small shop in our own neighborhood? There is a need for a shop here, and it will keep you occupied as well." Upon hearing this, the young man’s face turned red. "Father! Look at my education. How can I run a shop? Don't you think about these things yourself? What will people say?"
Dear readers, when I heard this incident, my thoughts stuck on that phrase "think about these things." This sentence clung to my mind and heart: "What will people say?" Has "What will people say?" truly become such a ruler over our lives? Who among us does not know the unemployment rate in our country and how much it increases every year? Who is unaware that more than twenty million young people in our beloved homeland are unemployed? If you have seen these reports, then listen to a third piece of news that is even more astonishing: the majority of these unemployed youths consider doing small jobs or even thinking about them an insult to their dignity. If an elder gives them such advice, they immediately reject it and turn against them. But have we ever thought that perhaps this very misunderstanding is the biggest obstacle to our progress?
The Reality of Professional Education and the Employment Mindset
A college principal was asked, "You teach business. Subjects from creating feasibility reports to facing difficulties, and from investment to risk management, are all memorized by your students. But tell me honestly, how many of your graduates actually start their own business, whether small or large?" You will be shocked to hear his reply: "Only five percent! All the rest get caught up in the pursuit of jobs, and a large number of them just sit and wait for a government job." It is as if we learn how to hunt a lion, work hard for it, and make every effort, but when the opportunity comes, we do not actually hunt. Instead, we just want someone to come and learn how to hunt from us so that we don't have to face the hassle and toil of going into the jungle.
What a tragedy this is, my friends! It seems we consider a job as honor and business as a disgrace. We do not see that the person running a shop is living a much better life than ours. I have a friend whose son was unemployed for five years. I advised him to start an online business. His answer was, "Brother! I have done an MA. These small tasks are beneath me." Whereas the reality is that in today’s era, online business is no longer small. People are earning millions from a small website. Do you know that in developed countries, most young people start or want to start their own business, and if they fail, they call it an experience? Meanwhile, in our Eastern regions, personal, private, or small-scale work is not even considered "work." And if someone starts and faces temporary losses, they are called "unlucky," "ill-fated," and many other things. It seems to me that this is the difference between successful and unsuccessful nations. They consider work as "work." We consider work as "status." Or you could say their progress and rise are their own choice, and our decline and backwardness are our own selection. We see examples all around us; how many times do we see two classmates of equal caliber? One moves forward to set up his own business while the other looks for a job with a decent package. A few years later, we see the first one has become the owner of several shops, while the second is still searching for a job. The only difference between the two is that one killed his ego, while the other was killed by his ego.
Breaking the Idol of Ego and Embracing the Dignity of Work
But the question arises: why do we do this? In my opinion, the reason is our social structure, which has divided tasks into castes. We believe that after doing a BA or MA, doing a small job is an insult to our education, whereas the truth of education was that it was meant to teach us how to work, not how to leave work. Who among us doesn't know that most of the world's richest people started with small jobs? But we want to sit in a big office from the very first day. So friends, can we break this idol of ego? Can we learn to respect work? I claim that doing so is very easy. We just need to adopt some principles in our lives. For example, we should clear our vision that we do not acquire education just to get a job.
We should give respect to every honest livelihood. Never make fun of small jobs in life; instead, consider them the starting point for big dreams. The world is full of such examples. Furthermore, instead of being influenced by what people say, we should focus on our goals and prioritize the quality of work rather than the type of work. Dear readers! Decide today that we will break this idol of ego. Decide today that we will respect work, no matter what it is. Because we know that the river which feels ashamed to pass through streams to meet the sea can never become an ocean. And remember, a time comes when the walls of ego crumble before an empty stomach. But God forbid that by then, the opportunity to work has passed. So today, when there is the custom, the tradition, and the opportunity, why don't we work?
"لوگ کیا کہیں گے؟" کا المیہ اور محنت کی عظمت
وہ نوجوان ایم اے پاس تھا، لیکن اس کے باوجود تین سال سے بے روزگار تھا۔ ایک دن اس کے والد نے کہا: "بیٹا! ہمارے گھر کی بیٹھک کا دروازہ گلی میں کھلتا ہے، اس کی مرمت کرا کے تم اپنے ہی محلے میں ایک چھوٹی سی دکان کھول لو، یہاں دکان کی ضرورت بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ تمہارا بھی کام چلتا رہے گا۔" یہ سننا تھا کہ نوجوان کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ "ابا! میری تعلیم دیکھیں۔ پھر میں دکان کیسے چلاؤں گا۔۔؟ آپ خود سوچتے ووچتے نہیں ہیں کیا۔۔؟ لوگ کیا کہیں گے۔۔؟" قارئین کرام! میں نے جب یہ واقعہ سنا تو چوہدری زادے کے اس جملے پر " سوچتا ووچتا" ہی چلا گیا۔ یہ جملہ میرے دل و دماغ پر چپک کر رہ گیا۔ " لوگ کیا کہیں گے۔۔؟" "لوگ کیا کہیں گے۔۔؟" کیا واقعی 'لوگ کیا کہیں گے' ہماری زندگیوں پر اس قدر حاکم ہو چکا ہے۔۔؟ محترم قارئین! کون نہیں جانتا کہ ہمارے ہاں بے روزگاری کی کیا شرح ہے اور ہر سال اس میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے۔۔؟ کون نہیں جانتا کہ وطن عزیز میں دو کروڑ سے زیادہ نوجوان بے روزگار ہیں۔۔؟ اگر یہ سب خبریں آپ کی نظروں سے گزری ہیں اور گزرتی رہتی ہیں، تو تیسری خبر سنیے، جو ان سب سے زیادہ حیران کن ہے اور وہ یہ کہ ان بے روزگار نوجوانوں کی اکثریت وہ ہے جو چھوٹے کام کرنا تو دور ان کے بارے میں سوچنا تک اپنی توہین سمجھتے ہیں، اور اگر کوئی بڑا بوڑھا انہیں ایسا مشورہ دے، تو یہ فوراً سے اسے رد کر تے ہوئے اس کے سر ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اس طور پر سوچا کہ کہیں یہی وہ غلط فہمی تو نہیں جو ہماری ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہو۔۔۔؟
پیشہ ورانہ تعلیم کی حقیقت اور ملازمت کا مزاج
ایک کالج کے پرنسپل سے پوچھا گیا کہ آپ بزنس پڑھاتے ہیں۔ فیزیبلٹی بنانے سے لے کر مشکلات کا سامنا کرنا اور سرمایہ کاری سے لے کر رسک مینجمنٹ تک کے تمام مضامین آپ لوگوں کو ازبر ہوتے ہیں۔ لیکن آپ ایمانداری سے یہ بتائیے کہ آپ کے گریجویٹس میں سے کتنے اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں۔۔؟ چاہے پھر وہ کام چھوٹا ہو یا بڑا۔ قارئین کرام! آپ کو سن کر جھٹکا لگے گا کہ انہوں نے جواب دیا: "صرف پانچ فیصد! باقی سب نوکری کے چکر میں لگ جاتے ہیں اور ان میں بھی ایک بڑی تعداد سرکاری نوکری کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔" گویا ہم شیر کا شکار کرنا سیکھتے ہیں۔ اس کے لیے محنتیں کرتے ہیں۔ جتن کرتے ہیں لیکن موقع آنے پر عملی طور پر شکار نہیں کرتے بلکہ اس کے بجائے بس یہی چاہتے ہیں کہ کوئی آئے اور ہم سے یہ شکار کرنا سیکھ لے، ہمیں عملی طور پر شکار کرنا پڑے نہ جنگل میں جانے کی جھنجھٹ اور مشقت برداشت کرنی پڑے۔
یہ کیسا المیہ ہے دوستو! گویا ہم نوکری کو عزت سمجھتے ہیں اور کاروبار کو ذلت! ہم یہ نہیں دیکھتے کہ جو شخص دکان چلا رہا ہے، وہ ہمارے سے کہیں بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ میرے ایک دوست ہیں۔ ان کا بیٹا پانچ سال سے بے روزگار تھا۔ میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ آن لائن کاروبار شروع کرے۔ اس کا جواب تھا " بھائی! میں نے ایم اے کیا ہوا ہے۔ یہ چھوٹے موٹے کام میرے قابل نہیں۔" حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں آن لائن کاروبار چھوٹا نہیں رہا۔ ایک چھوٹی سی ویب سائٹ سے لوگ لاکھوں کما رہے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں اکثر نوجوان اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں اور اگر اس میں ناکام ہوں تو وہ اسے ایک تجربہ کہتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں مشرقی خطوں میں ذاتی، نجی یا چھوٹی سطح کا کام گویا کام ہی نہیں سمجھا جاتا۔ اور اگر کوئی شروع کرکے وقتی خسارے میں جانے لگے تو اسے "قسمت کا مارا" "پھوٹی قسمت والا" اور نہ جانے کیا کیا کہا جاتا ہے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ یہی فرق ہے کامیاب اور ناکام قوموں میں۔ وہ کام کو " کام" سمجھتے ہیں۔ ہم کام کو " ذات" سمجھتے ہیں۔ یا یہ کہیے کہ ان کی ترقی اور عروج ان کی اپنی چوائس ہے اور ہمارا زوال اور پسماندگی خود ہمارا انتخاب۔ حالانکہ ہمارے سامنے مثالیں بھری پڑی ہیں، کتنی ہی بار ہم دیکھتے ہیں کہ دو ہم جماعت ساتھی ایک سی استعداد کے ہوتے ہیں۔ ایک آگے بڑھ کر اپنا کاروبار سیٹ کرتا ہے اور دوسرا مناسب سے پیکج والی کوئی نوکری تلاش کرنے لگتا ہے۔ چند سالوں بعد ہم پہلے کو دیکھتے ہیں کہ کئی دکانوں کا مالک بن جاتا ہے، جبکہ دوسرا ابھی بھی نوکری ہی تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ایک نے انا کو مارا ہوتا ہے تو دوسرا انا کا مارا ہوتا ہے۔
انا کے بت کا خاتمہ اور کام کی عزت
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔۔؟ قارئین کرام! میرے خیال میں اس کی وجہ ہمارا سماجی ڈھانچہ ہے، جس نے کاموں کو ذاتوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بی اے، ایم اے کر لینے کے بعد چھوٹا کام کرنا ہماری تعلیم کی توہین ہے، حالانکہ تعلیم کا سچ تو یہ تھا کہ تعلیم ہمیں کام سکھانے کے لیے تھی، کام چھوڑنے کے لیے نہیں۔ ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے زیادہ تر نے چھوٹے کاموں سے ہی آغاز کیا ہوتا ہے، مگر ہم تو چاہتے ہیں کہ پہلے دن سے ہی بڑے آفس میں بیٹھیں۔ تو دوستو! کیا ہم اس انا کے بت کو توڑ سکتے ہیں۔۔؟ کیا ہم کام کی عزت کرنا سیکھ سکتے ہیں۔۔؟ میرا دعویٰ ہے کہ ایسا کرنا بہت آسان ہے۔ بس ہمیں اپنی زندگی میں کچھ اصول اپنانے ہوں گے، مثلاً ہم اپنا تصور کلیئر کرلیں کہ ہم تعلیم ملازمت کرنے کے لیے حاصل نہیں کرتے۔
ہم ہر ایمانداری کی کمائی کو عزت دیں۔ زندگی میں کبھی بھی چھوٹے کاموں کا مذاق نہ اڑائیں بلکہ انہیں بڑے خوابوں کا نقطہ آغاز سمجھیں۔ اور اس طرح کی مثالیں دنیا میں بھری پڑی ہیں۔ نیز ہم لوگوں کی باتوں سے متاثر ہونے کے بجائے اپنے مقصد پر توجہ دیں اور کام کی نوعیت نہیں کام کے معیار کو اہمیت دیں۔ قارئین کرام! آج یہ فیصلہ کریں کہ ہم انا کے اس بت کو توڑیں گے۔ آج ہی طے کریں کہ ہم کام کی عزت کریں گے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ دریا جو ندی نالوں سے گزر کر سمندر سے ملنے میں شرم محسوس کرے، وہ کبھی سمندر نہیں بن سکتا۔ اور یاد رکھیں کہ ایک وقت آتا ہے کہ خالی پیٹ کے آگے انا کی دیواریں بھی ڈھیر ہو جاتی ہیں۔ لیکن خاکم بدہن خدانہ کرے کہ تب تک کام کرنے کا موقع نکل چکا ہو۔۔۔ تو آج جب کہ رسم بھی ہے، دستور بھی اور موقع بھی تو ہم کام کیوں نہیں کرتے۔۔؟؟
Posted Using INLEO

